صحابی رسول عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کا کسی لڑائی میں دشمن سے سامنا تھا، آپ ﷺ نے انتظار کرتے ہوئے جنگ کی ابتدا سورج ڈھلنے تک نہیں کی۔ جب سورج ڈھل گیا، تو صحابۂ کرام سے خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے-جب کہ عام معمول کے مطابق آپ کے خطبے، نماز بعد ہوا کرتے تھے- آپ ﷺ نے دوران خطاب دشمن سے مقابلہ کرنےکی تمنا کرنے سے منع فرمایا؛ کیوں کہ اس میں خود پسندی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ (اس کی بجائے ) آپ ﷺ نے انھیں ہدایت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کریں۔ پھر فرمایا کہ جب دشمن سے مڈبھیر ہوجائے، تو ثابت قدمی کا مظاہرہ کرو۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ جنگ برپا کردے اور دشمنوں سے مقابلے میں تمھاری آزمائش کا موقع آجائے، تو میدان جنگ میں جم جاؤ، تشویش و اضطراب کو بالاطاق رکھ دو اور جان رکھو کہ تمھیں دو بھلائیوں میں سے ایک ضرور حاصل ہوکر رہے گی؛ یاتو اللہ تعالیٰ تمھیں دشمنوں پر فتح و نصرت عطا فرمائے گا اور تمھیں غلبہ حاصل ہوگا، اس طرح اللہ تعالی تمھیں دنیا میں دشمن پر غلبہ اور آخرت میں اجر وثواب دونوں ہی سے نوازے گا یا یہ کہ جہاد میں پوری طاقت صرف کرنے کے باوجود تمھیں شکست سے دوچار ہونا پڑجائے، تو (اپنی جاں بازی و جاں نثاری کے بدلے) تمھیں اخروی اجر و ثواب حاصل ہوگا۔ آپ ﷺ کے قول " اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایے تلے ہے" کے معنی یہ ہیں کہ جہاد دخول جنت کا باعث ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے پروردگار سے، اس کی نازل کردہ شریعت اور اس کی قدرت کاملہ کا وسیلہ لیتے ہوئے، اپنے دشمنوں کے خلاف مسلمانوں کی مدد و نصرت کی دعا فرمائی۔ وباللہ التوفیق۔