یہ حدیث اس شخص کی خاطر نبوی طریقہ بیان کرنے کے لیے لائی گئی ہے، جو اپنی بیوی سے دوبارہ صحبت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ چنانچہ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے اور پھر دوبارہ صحبت کا ارادہ کرے“ یعنی ایک شخص اپنی بیوی سے صحبت کرنے کے بعد دوبارہ سہ بارہ کا ارادہ رکھتا ہو۔ ”توان درمیان میں وضو کرے“ اس میں اس حکم کی رہنمائی ملتی ہے، یعنی پہلی بارصحبت کرنے کےبعد اور دوبارہ صحبت کرنے سے پہلے۔ اور یہاں وضو سےمراد نماز کے لیے وضو کی طرح وضو کرناہے؛ کیوں کہ وضو کا لفظ جب مطلق بولا جائے، تو اس سے مراد شرعی وضو ہی ہوتا ہے اور اس بات کی وضاحت صحیح ابن خزیمہ اور سنن بیہقی کی ایک روایت سے ہوتی ہے، جس میں اس بات کی صراحت ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ پھر نماز کے لیے وضو کی طرح وضو کرو۔ یہ وضو مستحب ہے۔